دلاور علی آزر

اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)

28 December 2025

14سپیکرز
188لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

آنکھوں سے کچھ چبھن بھی دل بے قرار کھینچ

آنکھوں سے کچھ چبھن بھی دل بے قرار کھینچ اشکوں کو جمع کرتے ہوئے انتظار کھینچ تخلیق نو میں رکھ نئے مصرعے کے خد و خال لوح سخن پہ لفظ کی تازہ بہار کھینچ ڈھیل اتنی دے رہا ہے محبت میں کیوں اسے ہاتھوں سے دل نکل ہی نہ جائے مہار کھینچ ماضی سے تو ملا دے مرے حال کا سرا میں منتظر کھڑا ہوں مرے یار تار کھینچ کس نے کہا تھا چاند کو گرہن سے فتح کر کس نے کہا تھا سایۂ نصف النہار کھینچ کب تک میں اس گلی کی طرف رخ کیے رکھوں ایسے تو اے کشش نہ مجھے بار بار کھینچ غرق اس کو کر نہ دے کہیں لہروں کا اضطراب کشتی پہ ہاتھ رکھ اسے دریا کے پار کھینچ

— دلاور علی آزر

عکس منظر میں پلٹنے کے لیے ہوتا ہے

عکس منظر میں پلٹنے کے لیے ہوتا ہے آئینہ گرد سے اٹنے کے لیے ہوتا ہے شام ہوتی ہے تو ہوتا ہے مرا دل بیتاب اور یہ تجھ سے لپٹنے کے لیے ہوتا ہے یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں کئی دنیاؤں کو ایسا پھیلاؤ سمٹنے کے لیے ہوتا ہے علم جتنا بھی ہو کم پڑتا ہے انسانوں کو رزق جتنا بھی ہو بٹنے کے لیے ہوتا ہے سائے کو شامل قامت نہ کرو آخر کار بڑھ بھی جائے تو یہ گھٹنے کے لیے ہوتا ہے گویا دنیا کی ضرورت نہیں درویشوں کو یعنی کشکول الٹنے کے لیے ہوتا ہے مطلع صبح نمو صاف تو ہوگا آزرؔ ابر چھایا ہوا چھٹنے کے لیے ہوتا ہے

— دلاور علی آزر