سپیکرز
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
آنکھوں سے کچھ چبھن بھی دل بے قرار کھینچ
آنکھوں سے کچھ چبھن بھی دل بے قرار کھینچ اشکوں کو جمع کرتے ہوئے انتظار کھینچ تخلیق نو میں رکھ نئے مصرعے کے خد و خال لوح سخن پہ لفظ کی تازہ بہار کھینچ ڈھیل اتنی دے رہا ہے محبت میں کیوں اسے ہاتھوں سے دل نکل ہی نہ جائے مہار کھینچ ماضی سے تو ملا دے مرے حال کا سرا میں منتظر کھڑا ہوں مرے یار تار کھینچ کس نے کہا تھا چاند کو گرہن سے فتح کر کس نے کہا تھا سایۂ نصف النہار کھینچ کب تک میں اس گلی کی طرف رخ کیے رکھوں ایسے تو اے کشش نہ مجھے بار بار کھینچ غرق اس کو کر نہ دے کہیں لہروں کا اضطراب کشتی پہ ہاتھ رکھ اسے دریا کے پار کھینچ
عکس منظر میں پلٹنے کے لیے ہوتا ہے
عکس منظر میں پلٹنے کے لیے ہوتا ہے آئینہ گرد سے اٹنے کے لیے ہوتا ہے شام ہوتی ہے تو ہوتا ہے مرا دل بیتاب اور یہ تجھ سے لپٹنے کے لیے ہوتا ہے یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں کئی دنیاؤں کو ایسا پھیلاؤ سمٹنے کے لیے ہوتا ہے علم جتنا بھی ہو کم پڑتا ہے انسانوں کو رزق جتنا بھی ہو بٹنے کے لیے ہوتا ہے سائے کو شامل قامت نہ کرو آخر کار بڑھ بھی جائے تو یہ گھٹنے کے لیے ہوتا ہے گویا دنیا کی ضرورت نہیں درویشوں کو یعنی کشکول الٹنے کے لیے ہوتا ہے مطلع صبح نمو صاف تو ہوگا آزرؔ ابر چھایا ہوا چھٹنے کے لیے ہوتا ہے